اللہ نے فرعون اور اس کی فوج کو کیوں تباہ کیا؟
فرعون مصر کا ایک بہت طاقتور حاکم تھا۔ اس کے پاس بڑی حکومت، دولت اور ایک مضبوط فوج تھی۔ لیکن اپنی طاقت کے غرور میں اس نے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کی اور بنی اسرائیل پر بہت ظلم کیا۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو اپنی نشانیوں کے ساتھ فرعون کے پاس بھیجا، لیکن فرعون نے حق کو قبول کرنے کے بجائے تکبر اور ظلم کا راستہ اختیار کیا۔
فرعون نے لوگوں پر ظلم کیوں کیا؟
فرعون خود کو بہت بڑا اور طاقتور سمجھتا تھا۔ اس نے اپنی قوم کو مختلف گروہوں میں تقسیم کر دیا تھا اور بنی اسرائیل کو کمزور بنا کر رکھا ہوا تھا۔
وہ بنی اسرائیل کے بیٹوں کو قتل کرواتا اور ان کی عورتوں کو زندہ رہنے دیتا تھا۔ اس طرح اس نے بنی اسرائیل پر بہت بڑا ظلم کیا اور انہیں طرح طرح کی مشکلات میں مبتلا رکھا۔
حضرت موسیٰ علیہ السلام کو فرعون کے پاس بھیجا گیا
اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو فرعون کے پاس بھیجا اور اسے اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنے اور بنی اسرائیل کو آزاد کرنے کا پیغام دیا۔
حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ کی طرف سے واضح نشانیاں پیش کیں، لیکن فرعون نے حق کو قبول نہیں کیا اور اپنی حکومت اور طاقت کے غرور میں مبتلا رہا۔
فرعون نے اللہ کی نشانیوں کو جھٹلایا
فرعون نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کی نشانیوں کو جادو قرار دے کر جھٹلانے کی کوشش کی۔ اس نے اپنی قوم کو بھی حضرت موسیٰ علیہ السلام کی دعوت سے دور رکھنے کی کوشش کی۔
لیکن اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام اور ان پر ایمان لانے والوں کی مدد فرمائی۔
بنی اسرائیل کو مصر سے کیوں نکالا گیا؟
بنی اسرائیل ایک طویل عرصے سے مصر میں فرعون کی حکومت کے تحت رہ رہے تھے۔ فرعون نے انہیں کمزور بنا رکھا تھا اور ان پر طرح طرح کے ظلم کرتا تھا۔ وہ ان کے بیٹوں کو قتل کرواتا اور ان کی عورتوں کو زندہ چھوڑ دیتا تھا۔
اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو فرعون کے پاس بھیجا اور انہیں بنی اسرائیل کو فرعون کے ظلم سے نجات دلانے کا حکم دیا۔
حضرت موسیٰ علیہ السلام نے فرعون سے کہا کہ بنی اسرائیل کو آزاد کر دے، لیکن فرعون نے ان کی بات قبول نہیں کی اور اپنی سرکشی پر قائم رہا۔
آخرکار اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو حکم دیا کہ وہ بنی اسرائیل کو لے کر رات کے وقت مصر سے نکل جائیں۔ اس طرح بنی اسرائیل فرعون کے ظلم سے نجات حاصل کرنے کے لیے مصر سے نکل پڑے۔
فرعون اور اس کی فوج نے پیچھا کیا
جب فرعون کو معلوم ہوا کہ بنی اسرائیل مصر سے نکل چکے ہیں تو اس نے اپنی بڑی اور طاقتور فوج کے ساتھ ان کا پیچھا شروع کر دیا۔
بنی اسرائیل کے سامنے سمندر تھا اور پیچھے فرعون کی فوج۔ اس وقت انہیں بہت خوف اور پریشانی کا سامنا کرنا پڑا۔
لیکن حضرت موسیٰ علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ پر مکمل یقین تھا۔ انہوں نے اپنی قوم کو تسلی دی کہ اللہ ان کے ساتھ ہے اور وہ انہیں ضرور راستہ دکھائے گا۔
سمندر میں راستہ کیسے بنا؟
اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو حکم دیا کہ اپنی لاٹھی سمندر پر ماریں۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اللہ کے حکم کی پیروی کی۔
اللہ تعالیٰ کی قدرت سے سمندر میں راستہ بن گیا اور پانی دونوں طرف کھڑا ہوگیا۔ بنی اسرائیل اس راستے سے گزر کر بحفاظت دوسری طرف پہنچ گئے۔
یہ اللہ تعالیٰ کی قدرت کی ایک بہت بڑی نشانی تھی۔ اس سے ظاہر ہوا کہ جب اللہ اپنے بندوں کی مدد فرماتا ہے تو کوئی طاقت انہیں نقصان نہیں پہنچا سکتی۔
فرعون اور اس کی فوج کا انجام
بنی اسرائیل کے گزر جانے کے بعد فرعون اور اس کی فوج بھی اسی راستے سے سمندر میں داخل ہوگئی۔
جب فرعون اور اس کی فوج سمندر کے درمیان پہنچ گئی تو اللہ تعالیٰ کے حکم سے پانی اپنی حالت پر واپس آگیا۔
اس طرح فرعون اور اس کی پوری فوج سمندر میں غرق ہوگئی۔
جب فرعون کو اپنی موت سامنے نظر آئی تو اس نے ایمان لانے کا دعویٰ کیا، لیکن اس وقت اس کا ایمان اس کے لیے فائدہ مند نہ تھا۔ قرآن مجید میں فرعون کے آخری وقت کے اس قول کا ذکر موجود ہے۔
فرعون کو کیوں تباہ کیا گیا؟
فرعون کی تباہی صرف اس لیے نہیں ہوئی کہ وہ ایک حاکم تھا، بلکہ اس کے ظلم، تکبر، حق کو جھٹلانے اور لوگوں کو اللہ کے راستے سے روکنے کی وجہ سے ہوئی۔
اس نے اپنی طاقت کو انصاف کے لیے استعمال کرنے کے بجائے لوگوں پر ظلم کرنے کے لیے استعمال کیا۔ جب اس کے سامنے حق بالکل واضح ہوگیا تو اس کے باوجود اس نے اسے قبول نہیں کیا۔
اس کا غرور اتنا بڑھ گیا تھا کہ وہ اپنی حکومت اور طاقت کو ہمیشہ باقی رہنے والی سمجھنے لگا تھا۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے دکھا دیا کہ دنیا کی کوئی بھی طاقت اس کی قدرت کے سامنے نہیں ٹھہر سکتی۔
اس واقعے سے ہمیں کیا عبرت ملتی ہے؟
فرعون کا واقعہ انسان کے لیے بہت بڑی نصیحت اور عبرت ہے۔ دنیا کی دولت، طاقت، فوج اور حکومت ہمیشہ باقی رہنے والی چیزیں نہیں ہیں۔
اگر انسان کو طاقت ملنے کے بعد غرور اور تکبر پیدا ہوجائے، وہ دوسروں پر ظلم کرنے لگے اور حق واضح ہونے کے باوجود اسے رد کر دے تو اس کی طاقت اسے ہمیشہ نہیں بچا سکتی۔
حضرت موسیٰ علیہ السلام اور فرعون کا یہ واقعہ ہمیں سکھاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی مدد حق اور صبر کرنے والوں کے ساتھ ہوتی ہے، جبکہ ظلم اور تکبر کا انجام آخرکار تباہی کی طرف لے جا سکتا ہے۔
خلاصہ
فرعون اور اس کی فوج کی تباہی قرآن مجید میں بیان کردہ ایک اہم واقعہ ہے۔ یہ واقعہ ہمیں بتاتا ہے کہ انسان چاہے کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، اللہ تعالیٰ کی قدرت کے سامنے بے بس ہے۔
فرعون نے اپنی طاقت پر غرور کیا، حق کو جھٹلایا اور لوگوں پر ظلم کیا۔ آخرکار وہی سمندر جس کے راستے وہ بنی اسرائیل کا پیچھا کر رہا تھا، اس کی اور اس کی فوج کی تباہی کا سبب بن گیا۔
اس واقعے سے ہمیں یہ عبرت ملتی ہے کہ تکبر سے بچنا چاہیے، کسی پر ظلم نہیں کرنا چاہیے، حق کو قبول کرنا چاہیے اور ہر حال میں اللہ تعالیٰ پر بھروسہ رکھنا چاہیے۔








