ایک زمانے میں تین براعظموں تک پھیلی ہوئی سلطنتِ عثمانیہ جنگ کے اختتام تک ٹوٹنے کے دہانے پر پہنچ چکی تھی۔ اس کے بعد ہونے والی سیاسی تبدیلیوں نے عرب علاقوں کی سرحدوں، اقتدار اور نظامِ حکومت کو نئے سرے سے تشکیل دیا۔
اس تاریخ کو سمجھنے کے لیے ہمیں چند اہم سوالات پر غور کرنا ہوگا:
سلطنتِ عثمانیہ اپنی سابقہ طاقت کیوں کھونے لگی؟
یورپی ممالک کی بڑھتی ہوئی فوجی اور اقتصادی طاقت نے اس عمل کو کیسے متاثر کیا؟
پہلی جنگِ عظیم میں سلطنتِ عثمانیہ نے جرمنی کا ساتھ کیوں دیا؟
عرب بغاوت اور برطانیہ کی پالیسیوں نے سلطنت کے زوال میں کیا کردار ادا کیا؟
جنگ کے بعد خلافت کا مستقبل کیسے تبدیل ہوا؟
ان سوالات کے جوابات ہمیں تاریخ کے ان واقعات تک لے جاتے ہیں جنہوں نے آج کے مشرقِ وسطیٰ کے سیاسی ڈھانچے کو تشکیل دیا۔
1۔ سلطنتِ عثمانیہ کا عروج اور بدلتی ہوئی دنیا
سلطنتِ عثمانیہ کا آغاز تیرہویں صدی کے آخر میں اناطولیہ کے علاقے میں ہوا۔ آنے والی صدیوں میں اس سلطنت نے جنوب مشرقی یورپ، مغربی ایشیا اور شمالی افریقہ کے وسیع علاقوں پر اپنا اقتدار قائم کیا۔
1453 میں قسطنطنیہ کی فتح سلطنتِ عثمانیہ کی تاریخ کا ایک اہم واقعہ تھی۔ اس کے بعد یہ شہر عثمانی حکومت کا مرکزی مقام بنا اور آگے چل کر استنبول کے نام سے مشہور ہوا۔
صدیوں تک سلطنتِ عثمانیہ تجارت، انتظامیہ،
فوجی طاقت اور ثقافتی سرگرمیوں کا ایک اہم مرکز رہی۔ تاہم وقت گزرنے کے ساتھ یورپ میں اقتصادی، سائنسی اور فوجی تبدیلیاں تیزی سے ہونے لگیں۔ سمندری تجارت کے نئے راستے کھلے، صنعتی پیداوار میں اضافہ ہوا اور کئی یورپی ممالک نے اپنی فوجوں اور انتظامی نظام کو جدید بنایا۔
دوسری طرف سلطنتِ عثمانیہ کو اقتصادی دباؤ، انتظامی مسائل، علاقائی بغاوتوں اور مسلسل جنگوں کا سامنا کرنا پڑا۔ ان چیلنجز نے آہستہ آہستہ اس کی پوزیشن کو کمزور کیا۔
یہ کہنا درست نہیں ہوگا کہ سلطنت کا زوال صرف ایک واقعے یا ایک غلطی کا نتیجہ تھا۔ اس کے پیچھے کئی صدیوں میں پیدا ہونے والے سیاسی، اقتصادی اور فوجی حالات کارفرما تھے۔
2۔ چھاپہ خانے کی ایجاد اور علم کے پھیلاؤ میں تبدیلی
پندرہویں صدی میں یورپ میں متحرک حروف والے چھاپہ خانے کی ترقی نے علم کے پھیلاؤ کو ایک نئی شکل دی۔ یوہانس گٹن برگ کا نام اس تکنیکی ترقی کے ساتھ خاص طور پر وابستہ ہے۔
چھاپہ خانے کی مدد سے کتابیں پہلے کے مقابلے میں زیادہ تعداد میں اور کم وقت میں تیار ہونے لگیں۔ اس سے تعلیم، سائنسی نظریات اور مذہبی لٹریچر کے پھیلاؤ میں نمایاں تبدیلی آئی۔
اس زمانے میں مسلم دنیا میں بھی علما، کتب خانوں اور علمی روایت کی ایک مضبوط بنیاد موجود تھی۔ تاہم عربی اور دوسری زبانوں میں چھپائی کو اپنانے کا عمل یورپ سے مختلف رہا۔ اس کے پیچھے مذہبی، ثقافتی، اقتصادی اور تکنیکی وجوہات تھیں۔
یہ دعویٰ کہ مسلمانوں نے چھاپہ خانے کو مکمل طور پر حرام قرار دے دیا تھا، تاریخی طور پر درست نہیں ہے۔ سلطنتِ عثمانیہ میں 1727 میں ابراہیم متفرّقہ اور سعید افندی کو عربی رسم الخط میں ترکی زبان کی کتابیں چھاپنے کی اجازت ملی۔ اس سے پہلے بھی عثمانی علاقوں میں بعض غیر مسلم برادریاں چھپائی کا کام کرتی تھیں۔
ذا چھاپہ خانے کو اپنانے میں تاخیر کو مسلم دنیا کے پیچھے رہ جانے کی واحد وجہ قرار دینا مناسب نہیں ہوگا۔ یورپ کی سائنسی اور صنعتی ترقی کے پیچھے تعلیم، اداروں، تجارت، سیاسی مقابلے اور تکنیکی اختراعات سمیت کئی عوامل موجود تھے۔
3۔ سمندری دریافتیں اور یورپ کی بڑھتی ہوئی اقتصادی طاقت
1492 میں کرسٹوفر کولمبس بحرِ اوقیانوس عبور کرکے کیریبین کے علاقے میں پہنچا۔ یورپی تاریخ میں اس واقعے کو امریکہ کی دریافت کے طور پر بیان کیا جاتا ہے، حالانکہ اس براعظم میں اس سے بہت پہلے سے مقامی آبادی اور معاشرے موجود تھے۔
اس کے بعد اسپین اور پرتگال سمیت کئی یورپی طاقتوں نے نئے سمندری راستوں اور علاقوں پر اپنا کنٹرول بڑھانا شروع کیا۔
امریکہ میں نوآبادیات کا قیام، معدنی وسائل کا استحصال اور بحرِ اوقیانوس کی تجارت نے یورپی سلطنتوں کی اقتصادی طاقت میں اضافہ کیا۔ اس عمل میں مقامی آبادی کی بے دخلی، غلامی اور وسیع پیمانے پر تشدد جیسے سنگین واقعات بھی پیش آئے۔
اسی دوران یورپی سمندری طاقتیں ایشیا اور افریقہ کی تجارت میں بھی زیادہ سرگرم ہوگئیں۔ آنے والی صدیوں میں نوآبادیاتی نظام پھیلا اور ہندوستان سمیت کئی علاقوں پر یورپی حکومتیں قائم ہوگئیں۔
یہ تبدیلی صرف مسلم سلطنتوں کے لیے نہیں بلکہ دنیا کے کئی قدیم سیاسی نظاموں کے لیے بھی ایک بڑا چیلنج بن کر سامنے آئی۔
4۔ سلطنتِ عثمانیہ کو درپیش بڑھتے ہوئے چیلنجز
اٹھارہویں اور انیسویں صدی تک سلطنتِ عثمانیہ کو یورپی طاقتوں کے ساتھ مسلسل فوجی مقابلے کا سامنا کرنا پڑ رہا تھا۔
روس، آسٹریا اور دوسرے یورپی ممالک کے ساتھ ہونے والی جنگوں میں سلطنت کو کئی علاقے کھونے پڑے۔ بلقان میں قوم پرستانہ تحریکوں نے بھی اس کی سیاسی وحدت کو متاثر کیا۔
انیسویں صدی میں سلطنت نے انتظامیہ، فوج، تعلیم اور قانون کے شعبوں میں اصلاحات کی کوشش کی۔ تنظیمات کی اصلاحات اسی وسیع تبدیلی کا حصہ تھیں۔ لیکن ان کوششوں کے باوجود اقتصادی انحصار، سیاسی کشمکش اور علاقائی عدم استحکام جیسے مسائل برقرار رہے۔
1908 کے نوجوان ترک انقلاب اور 1913 کے سیاسی واقعات نے اقتدار کے توازن کو مزید تبدیل کردیا۔ سلطان عبدالحمید ثانی کو 1909 میں اقتدار سے ہٹا دیا گیا اور ان کی جگہ سلطان محمد پنجم حکمران بنے۔
اس وقت تک سلطان کی سیاسی طاقت محدود ہوچکی تھی اور اتحاد و ترقی کمیٹی کے رہنماؤں کا حکومت میں اثر و رسوخ بڑھ گیا تھا۔ پہلی جنگِ عظیم میں سلطنت کی شمولیت کا فیصلہ بھی اسی سیاسی قیادت کے اندرونی اختلافات اور بین الاقوامی حالات سے متاثر ہوا۔
5۔ سلطان عبدالحمید ثانی اور فلسطین کا مسئلہ
سلطان عبدالحمید ثانی کا دورِ حکومت سلطنتِ عثمانیہ کی تاریخ کا ایک اہم مرحلہ تھا۔ ان کے دور میں سلطنت کو اقتصادی دباؤ، یورپی مداخلت اور قوم پرستانہ تحریکوں جیسے چیلنجز کا سامنا رہا۔
فلسطین کا مسئلہ بھی اسی دور میں بین
الاقوامی سیاست کا حصہ بننے لگا۔ انیسویں صدی کے آخری برسوں میں جدید سیاسی صیہونیت کا آغاز ہوا، جس کا مقصد یہودیوں کے لیے فلسطین میں ایک قومی وطن قائم کرنا تھا۔
تھیوڈور ہرزل نے اس مقصد کے لیے عثمانی قیادت سے رابطہ کرنے کی کوشش کی۔ سلطان عبدالحمید ثانی نے فلسطین پر عثمانی اقتدار سے سمجھوتہ کرنے سے انکار کیا۔ تاہم اس پورے معاملے کو صرف ایک ملاقات یا ایک پیشکش تک محدود کرکے سمجھنا تاریخ کی پیچیدگی کو کم کردے گا۔
فلسطین کا مستقبل بعد میں پہلی جنگِ عظیم، برطانوی پالیسیوں اور بین الاقوامی معاہدوں سے گہرے طور پر متاثر ہوا۔
6۔ یورپ میں جنگ کے حالات کیسے پیدا ہوئے؟
بیسویں صدی کے آغاز تک یورپ میں کئی بڑی طاقتیں ایک دوسرے کے ساتھ مقابلے میں تھیں۔ برطانیہ، فرانس، جرمنی، روس اور آسٹریا۔ ہنگری کے درمیان فوجی اتحاد، سامراجی مفادات اور سیاسی کشیدگی نے حالات کو پیچیدہ بنادیا تھا۔
جرمنی کی صنعتی اور فوجی طاقت تیزی سے بڑھ رہی تھی۔ برطانیہ اپنی بحری برتری برقرار رکھنا چاہتا تھا، جبکہ فرانس اور جرمنی کے درمیان طویل عرصے سے کشیدگی موجود تھی۔ روس اور آسٹریا۔ ہنگری کے مفادات بلقان کے علاقے میں ایک دوسرے سے ٹکرا رہے تھے۔
ان حالات میں 28 جون 1914 کو سرائیوو میں آسٹریا۔ ہنگری کے ولی عہد آرچ ڈیوک فرانز فرڈینینڈ اور ان کی اہلیہ سوفی کو قتل کردیا گیا۔ حملہ آور گاوریلو پرنسپ ایک بوسنیائی سرب قوم پرست تھا۔
اس واقعے نے پہلے سے موجود کشیدگی کو ایک بڑے بین الاقوامی بحران میں تبدیل کردیا۔ آسٹریا۔ ہنگری نے سربیا کو سخت شرائط پر مشتمل الٹی میٹم دیا اور 28 جولائی 1914 کو اس کے خلاف جنگ کا اعلان کردیا۔
اس کے بعد فوجی اتحادوں اور فوجوں کی نقل و حرکت کے باعث کئی یورپی ممالک جنگ میں شامل ہوگئے۔ یوں ایک علاقائی بحران عالمی جنگ میں تبدیل ہوگیا۔
7۔ پہلی جنگِ عظیم میں سلطنتِ عثمانیہ کی شمولیت
جنگ شروع ہونے پر سلطنتِ عثمانیہ نے فوری طور پر کسی ایک فریق کا ساتھ دینے کے بجائے اپنی پوزیشن کا جائزہ لیا۔ لیکن اس کی قیادت کے اندر جرمنی کے ساتھ اتحاد کرنے کے حق میں مضبوط آوازیں موجود تھیں۔
2 اگست 1914 کو سلطنتِ عثمانیہ اور جرمنی کے درمیان ایک خفیہ فوجی معاہدہ ہوا۔ اس معاہدے میں جنگ کی صورت میں دونوں ممالک کے تعاون کی شق شامل تھی۔ عثمانی قیادت کو امید تھی کہ جرمنی کے ساتھ اتحاد سلطنت کی سلامتی اور سیاسی مفادات کو مضبوط کرسکتا ہے۔
اسی دوران برطانیہ نے سلطنتِ عثمانیہ کے لیے تیار کیے جانے والے دو جنگی جہازوں کو اپنے قبضے میں لے لیا۔ عثمانی حکومت ان جہازوں کی قیمت ادا کرچکی تھی۔ اس اقدام نے دونوں ممالک کے درمیان بداعتمادی کو بڑھا دیا۔
اسی وقت جرمن جنگی جہاز گوئبن اور بریسلاؤ برطانوی بحریہ سے بچ کر عثمانی سمندری حدود میں پہنچ گئے۔ بعد میں انہیں باضابطہ طور پر عثمانی بحریہ میں شامل کیا گیا، اگرچہ ان پر
جرمن افسران اور ملاحوں کا اثر برقرار رہا۔
29 اکتوبر 1914 کو ان جہازوں سمیت عثمانی بحری بیڑے نے بحیرہ اسود میں روسی ٹھکانوں پر حملہ کیا۔ اس کے بعد روس نے 2 نومبر کو سلطنتِ عثمانیہ کے خلاف جنگ کا اعلان کردیا۔ برطانیہ اور فرانس نے 5 نومبر کو ایسا ہی کیا۔
اس طرح سلطنتِ عثمانیہ پہلی جنگِ عظیم میں جرمنی اور آسٹریا۔ ہنگری کی قیادت والے مرکزی اتحاد کے ساتھ شامل ہوگئی۔
8۔ خلافت کی اپیل اور جنگ کا مذہبی پہلو
سلطان محمد پنجم نے نومبر 1914 میں اتحادی طاقتوں کے خلاف جہاد کا اعلان کیا۔ اس کا مقصد برطانوی، فرانسیسی اور روسی سلطنتوں کے زیرِ اقتدار رہنے والے مسلمانوں میں عثمانی سلطنت کی حمایت بڑھانا تھا
تاہم اس اپیل کا اثر ہر علاقے میں یکساں نہیں رہا۔ بعض مقامات پر اس کی حمایت کی گئی، جبکہ کئی مسلم برادریوں نے اپنے مقامی سیاسی، سماجی اور اقتصادی حالات کے مطابق مختلف رویے اختیار کیے۔
ہندوستان کے مسلمانوں کی صورتِ حال بھی پیچیدہ تھی۔ بڑی تعداد میں ہندوستانی فوجی برطانوی ہندوستانی فوج میں خدمات انجام دے رہے تھے۔ اس لیے یہ کہنا درست نہیں ہوگا کہ تمام مسلمان فوجیوں نے خلافت کی اپیل سن کر
برطانوی فوج کے خلاف بغاوت کردی تھی۔
تاریخ دانوں کے مطابق اس مذہبی اپیل نے برطانیہ اور اس کے اتحادیوں کی حکمتِ عملی سے متعلق خدشات کو متاثر کیا، لیکن اس کے نتیجے میں وسیع پیمانے پر مسلم بغاوت نہیں ہوئی۔
9۔ گیلی پولی: عثمانی فوج کی اہم کامیابی
پہلی جنگِ عظیم کے دوران عثمانی فوج کی اہم کامیابیوں میں گیلی پولی کی مہم شامل تھی۔
1915 میں برطانیہ اور فرانس نے داردانیل کے آبنائے پر کنٹرول حاصل کرنے اور استنبول کی طرف پیش قدمی کرنے کے مقصد سے فوجی مہم شروع کی۔ اتحادیوں کو امید تھی کہ اس راستے سے وہ روس کو مدد پہنچا سکیں گے اور سلطنتِ عثمانیہ پر فیصلہ کن دباؤ ڈال سکیں گے
لیکن عثمانی فوجیوں نے سخت مزاحمت کی۔ دشوار جغرافیائی حالات، مضبوط دفاعی مورچوں اور فوجی قیادت کی وجہ سے اتحادیوں کی مہم کامیاب نہ ہوسکی۔
اس لڑائی میں دونوں فریقوں کو بھاری جانی نقصان اٹھانا پڑا۔ بالآخر اتحادی فوجوں کو پیچھے ہٹنا پڑا۔
گیلی پولی کی کامیابی نے عثمانی فوج کا حوصلہ بڑھایا اور مصطفیٰ کمال جیسے فوجی افسران کو وسیع شہرت دلائی۔ لیکن یہ کامیابی جنگ کے آخری نتیجے کو تبدیل کرنے کے لیے کافی نہیں تھی۔
10۔ عرب بغاوت اور برطانوی حکمتِ عملی
1916 میں شریف حسین بن علی کی قیادت میں عرب بغاوت شروع ہوئی۔ اس کا مقصد عثمانی حکومت سے الگ ہوکر عرب علاقوں میں ایک آزاد سیاسی نظام قائم کرنا تھا۔
برطانیہ نے اس بغاوت کی حمایت کی۔ لیکن اس کے پیچھے صرف مذہبی یا نسلی جذبات نہیں تھے؛ اس میں آزادی کی خواہشات، علاقائی سیاست اور برطانوی فوجی مفادات بھی شامل تھے۔
تاہم عرب بغاوت کو صرف برطانوی سازش کا نتیجہ قرار دینا بھی ایک نامکمل نقطۂ نظر ہوگا۔ عرب قوم پرستی اور عثمانی حکومت سے عدم اطمینان کی اپنی تاریخی وجوہات تھیں۔
برطانیہ نے عرب رہنماؤں کو آزادی کے حوالے سے یقین دہانیاں کرائیں، لیکن جنگ کے دوران ہی برطانیہ اور فرانس نے مشرقِ وسطیٰ کے علاقوں کو اپنے اثر و رسوخ میں تقسیم کرنے کی منصوبہ بندی بھی شروع کردی تھی۔ 1916 کا سائکس۔ پیکو معاہدہ اسی پالیسی کی ایک مثال تھا۔
11۔ جنگ کا نتیجہ اور خلافت کا خاتمہ
پہلی جنگِ عظیم نومبر 1918 میں مرکزی طاقتوں کی شکست کے ساتھ ختم ہوئی۔ سلطنتِ عثمانیہ نے بھی جنگ بندی قبول کرلی اور اس کے علاقوں پر اتحادی طاقتوں کا اثر و رسوخ بڑھنے لگا۔
1920 کے معاہدۂ سیورے میں سلطنت کے باقی ماندہ علاقوں کو تقسیم کرنے کا منصوبہ پیش کیا گیا، تاہم بعد میں ترکی کی جنگِ آزادی کے نتیجے میں یہ صورتِ حال تبدیل ہوگئی۔
1922 میں سلطنتِ عثمانیہ کا نظامِ سلطنت ختم کردیا گیا اور 1923 میں جمہوریہ ترکی قائم ہوئی۔ بالآخر 3 مارچ 1924 کو ترکی کی قومی اسمبلی نے خلافت کے ادارے کو ختم کردیا۔
اس طرح سلطنتِ عثمانیہ کی خلافت کا خاتمہ کسی ایک جنگ یا ایک شخص کے فیصلے کا نتیجہ نہیں تھا۔ یہ طویل سیاسی کشمکش، سامراجی مقاب
لے، قوم پرستانہ تحریکوں، اقتصادی بحران اور پہلی جنگِ عظیم کے تباہ کن اثرات کا مشترکہ نتیجہ تھا۔


